اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوج اور الانبار کے قبائل نے فلوجہ میں داخل ہوکر القاعدہ کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کرکے ان کے ٹھکانوں کی طرف پیشقدمی جاری رکھی۔ اتوار کے روز فلوجہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عراقی فوج نے فلوجہ کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے چھڑانے کی غرض سے کاروائی کا آغاز یا ہے اور شہر کے متعدد علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔ سینچر کے روز فوجی ہیلی کاپٹروں نے فلوجہ کے نواح میں القاعدہ کی ذیلی شاخ داعش کے ایک خفیہ ٹھکانے کو نشانہ بنا کر 30 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف سرکاری افواج کی زمینی کاروائی جاری ہے اور فوجی ہیلی کاپٹر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق الرمادی شہر میں مٹھی بھر دہشت گرد عوام کے گھروں اور اسکولوں میں چھپے ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق سرکاری افواج موصل، صلاح الدین اور الدیالہ میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ الانبار میں جاری کاروائی کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرسکیں۔ ایک طرف سے سرکاری افواج دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کررہی ہیں تو دوسری طرف سے عراقی پارلیمان میں المتحدون نامی دھڑے کے اراکین نے اس کاروائی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دیئے ہیں اور ان کے اس اقدام کو عراق کے سنی عوام کی طرف سے منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ عراقی سنی عوام کے مفتی اعظم مہدی الصمیدعی نے انہیں القاعدہ کے اراکین اور القاعدہ سے وابستہ عناصر قرار دیا ہے اور عراقی عوام سے ان کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان ہی افراد نے الانبار کو موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار کیا ہے۔عراقی عوام نے الزام لگایا ہے کہ ان کے مستعفی نمائندوں نے در حقیقت اپنے ووٹروں کے مطالبات کو نظر انداز کرکے ان کے مفادات کے خلاف اقدام کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے الانبار کے امن کو تباہ کیا ہے ان کے ساتھ مذاکرات نہيں کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
4 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 493436
العربیہ کے دعوے کے برعکس فلوجہ شہر پر القاعدہ کا کنٹرول تھا اور شہر کے عمائدین نے القاعدہ کی ذیلی شاخ داعش کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوکر اعلان کیا تھا کہ یہ شہر مزید القاعدہ کے قبضے میں نہیں ہے چنانچہ فوج نے شہر میں داخل ہوکر دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھا۔